زکوٰۃ اور فطرانہ: رمضان میں حساب کیسے کریں

زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہوتی ہے جس کے پاس ضرورت سے زائد مال نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ نصاب ساڑھے سات تولہ سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.35 گرام) ہے، اور زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد یعنی کل قابل زکوٰۃ مال کا چالیسواں حصہ ہے۔ فطرانہ (صدقہ فطر) اس سے الگ ہے اور عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔

یہ مضمون عام رہنمائی کے لیے ہے۔ زکوٰۃ اور فطرانہ کے کئی مسائل میں علماء کی رائے مختلف ہے، اس لیے اپنی خاص صورت حال کے لیے کسی معتبر عالم یا دارالافتاء سے ضرور پوچھیں۔

زکوٰۃ کن چیزوں پر ہے؟

  • سونا اور چاندی، زیور ہو یا سکے اور بسکٹ (زیر استعمال زیور کے بارے میں فقہی مکاتب کی رائے مختلف ہے)
  • نقد رقم، بینک اکاؤنٹ، سیونگ سرٹیفکیٹ اور دیگر بچت
  • کاروبار کا تجارتی مال، یعنی وہ سامان جو بیچنے کے لیے رکھا گیا ہو
  • وہ قرض جو کسی سے واپس ملنے کی امید ہو

رہائشی گھر، استعمال کی گاڑی، گھریلو سامان اور کاروبار کی مشینری پر عام طور پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ آپ پر جو قرض یا فوری واجب الادا بل ہوں وہ عموماً کل مال سے منہا کیے جاتے ہیں۔

نصاب کس کا لیا جائے؟

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ کا نصاب دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر سونے کے ساتھ نقدی یا چاندی بھی ہو تو بہت سے علماء چاندی کے نصاب کو معیار بناتے ہیں، جو قیمت میں کافی کم ہوتا ہے اور اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ ادا کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی اپنے مکتبہ فکر کے عالم سے رہنمائی لیں۔

مثال: زکوٰۃ کا حساب

مثال کے طور پر فرض کریں سونے کی قیمت 400,000 روپے فی تولہ اور چاندی 4,500 روپے فی تولہ ہے۔ یہ اصل قیمتیں نہیں صرف مثال ہیں؛ حساب کرتے وقت اسی دن کا مقامی صرافہ ریٹ لیں۔

  • سونے کا نصاب: 7.5 × 400,000 = 3,000,000 روپے
  • چاندی کا نصاب: 52.5 × 4,500 = 236,250 روپے
مال (مثال)رقم (روپے)
5 تولہ سونا × 400,0002,000,000
گھر میں نقد رقم650,000
بینک بیلنس900,000
دکان کا تجارتی مال300,000
کل3,850,000
منفی: واجب الادا قرض−250,000
قابل زکوٰۃ مال3,600,000
زکوٰۃ (2.5٪)90,000

اس مثال میں قابل زکوٰۃ مال 3,600,000 روپے ہے جو دونوں نصابوں سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ 3,600,000 ÷ 40 = 90,000 روپے بنتی ہے۔ اپنے اعداد کے ساتھ یہی حساب ہمارے زکوٰۃ کیلکولیٹر میں کریں۔ سونے کی قیمت تولہ یا گرام میں نکالنے کے لیے گولڈ پرائس کیلکولیٹر اور گرام کو تولہ میں بدلنے کے لیے گرام سے تولہ کنورٹر استعمال کریں۔

زکوٰۃ کی تاریخ

زکوٰۃ کا سال اس دن سے شمار ہوتا ہے جب آپ پہلی بار صاحب نصاب بنے، اور یہ قمری سال ہوتا ہے جو شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہے۔ بہت سے لوگ آسانی کے لیے ہر سال رمضان کی کوئی تاریخ مقرر کر لیتے ہیں۔ بینک اکاؤنٹس سے سرکاری زکوٰۃ کی کٹوتی کے قواعد وقتاً فوقتاً بدلتے رہے ہیں، اس لیے تازہ معلومات اپنے بینک سے لیں۔

فطرانہ (صدقہ فطر)

فطرانہ ہر اس مسلمان کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے جو عید کے دن نصاب کے برابر مال رکھتا ہو، اور گھر کا سربراہ اپنی اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرتا ہے۔ اس کی تفصیلی شرائط میں علماء کی آراء مختلف ہیں۔

  • بنیاد: فطرانہ اجناس کے ایک مقررہ پیمانے پر ہے: گندم یا آٹا تقریباً آدھا صاع، یا کھجور، جو اور کشمش ایک صاع۔ گرام میں اس پیمانے کی مقدار پر بھی معمولی اختلاف ہے۔
  • رقم: زیادہ تر لوگ اجناس کے بجائے ان کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ ہر سال مختلف دینی ادارے مارکیٹ ریٹ کے مطابق گندم، کھجور، کشمش وغیرہ کے حساب سے فی کس کم سے کم رقم کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ رقم ہر سال بدلتی ہے، اس لیے اسی سال کا اعلان دیکھیں۔
  • انتخاب: جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ گندم کے بجائے کھجور یا کشمش کے حساب سے زیادہ رقم دیتے ہیں۔
  • وقت: فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔ 2027 میں عید الفطر بدھ، 10 مارچ، 2027 کو متوقع ہے، اس لیے رمضان کے آخری ہفتے تک ادا کر دینا بہتر ہے تاکہ ضرورت مند بھی عید کی تیاری کر سکیں۔

انگریزی میں تفصیل کے لیے How to calculate zakat اور Sadqa-e-fitr (fitrana) پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟

ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (612.35 گرام) چاندی، یا ان کی قیمت کے برابر نقدی اور مال۔

زکوٰۃ کا حساب کیسے کریں؟

تمام قابل زکوٰۃ مال جمع کریں، واجب الادا قرض منہا کریں اور باقی کا 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ) نکالیں۔ زکوٰۃ کیلکولیٹر یہ حساب خود کر دیتا ہے۔

فطرانہ کتنا ہے؟

فطرانہ گندم، آٹے، کھجور، جو یا کشمش کے مقررہ پیمانے پر ہے۔ روپوں میں رقم ہر سال دینی ادارے مارکیٹ ریٹ کے مطابق اعلان کرتے ہیں، اس لیے اسی سال کا اعلان دیکھیں۔

فطرانہ کب تک ادا کرنا ہے؟

عید کی نماز سے پہلے۔ بہت سے لوگ رمضان کے دوران ہی ادا کر دیتے ہیں تاکہ ضرورت مند عید سے پہلے خریداری کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *